مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من (كره) أن يعطي الأرض بالثلث والربع باب: جو حضرات بٹائی پر زمین دینے کو ناپسند کرتے ہیں
حدیث نمبر: 22570
٢٢٥٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي حصين عن مجاهد عن رافع بن خديج قال: (نهانا) (١) رسول اللَّه ﷺ عن أمر كان ⦗٢٥⦘ لنا نافعًا، (نهانا) (٢) إذا (كانت) (٣) لأحدنا أرض إن يعطيها ببعض (خراجها) (٤) بثلث أو نصف، وقال: "من كانت له أرض فليزرعها أو ليمنحها أخاه" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت رافع بن خدیج رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسے کام سے منع فرمایا ہے جس میں صرف ہمیں نفع ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کسی کی زمین ہو اور وہ اس کو مزارعۃ بالثلث، یا ربع پر کسی کو دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کی زمین ہو وہ اس میں خود کھیتی باڑی کرے یا اپنے کسی بھائی کے لئے چھوڑ دے۔
حواشی
(١) في [ز]: (نهى).
(٢) في [أ، ح، ط]: (نهاه)، وفي [ط]: (نهى).
(٣) في [س، هـ]: (كان).
(٤) في [س]: (خرجها).
(٥) رجاله ثقات، أعله النسائي بأن مجاهدًا لم يسمع من رافع، أخرجه أحمد (١٧٢٦٤)، والترمذي (١٣٨٤)، والنسائي ٧/ ٣٥، والطبراني (٤٣٥٦)، والطحاوي ٤/ ١٠٥، وأصله عند البخاري (٢٣٣٢)، ومسلم (١٥٤٧).