مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من كره للرجل أن يبيع البيع ويستثني بعضه باب: جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ کوئی شخص بیع کرے اور اس میں بعض مجہول حصہ مستثنیٰ کر لے
حدیث نمبر: 22507
٢٢٥٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن عمرو بن شعيب قال: قلت لسعيد بن المسيب: أبيع (ثمرة) (١) أرضي وأستثني؟ قال: لا تستثن إلا شجرا معلومًا، ولا تبرأن من الصدقة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ : میں اپنی زمین کے پھل فروخت کر کے اس میں سے کچھ حصہ الگ کرسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا مستثنیٰ نہ کرو، اگر کرنا ہے تو ایک معین درخت الگ کرلو، لیکن اس کو بھی صدقہ سے بری نہ کرنا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اس رائے کو پسند فرمایا۔
حواشی
(١) في [ع]: (تمر)، وفي [هـ]: (ثمرة).