مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يشتري من الرجل الثوب فيقطعه ثم يجد به عوارا باب: کوئی شخص کسی سے کپڑا خریدے اور اُس کو کاٹ بھی لے پھر اُس کپڑے میں عیب پائے توکیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22481
٢٢٤٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت الحكم عن رجل اشترى ثوبًا فقطعه فوجد به عوارًا قال: يرده.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبۃ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم سے دریافت کیا کہ ایک شخص نے کپڑا خرید کر اس کو کاٹ لیا پھر اس میں عیب نکل آیا ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ کپڑا واپس کر دے گا، میں نے پھر حضرت حماد سے یہی دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ کپڑا واپس کر دے گا اور کاٹنے کا تاوان بھی واپس کرے گا۔ ( کپڑے کو کاٹنے کی وجہ سے جو خرابی آئی ہے اس کا جرمانہ بھی واپس کرے گا) شعبہ راوی فرماتے ہیں کہ مجھے ہیثم نے خبر دی ہے کہ حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اس سے عیب کا تاوان لے گا۔