مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يشتري من الرجل الثوب فيقطعه ثم يجد به عوارا باب: کوئی شخص کسی سے کپڑا خریدے اور اُس کو کاٹ بھی لے پھر اُس کپڑے میں عیب پائے توکیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22480
٢٢٤٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن الحسن (بن) (١) (عبيد اللَّه) (٢) عن إبراهيم عن شريح (أنه) (٣) اختصم إليه رجلان اشترى أحدهما من الآخر ⦗٦⦘ (راوية) (٤) فقطعها ثم وجد بها عيبا فقال (٥): (للذي) (٦) أحدثت بها أشد من الذي كان بها.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس دو شخص جھگڑا لے کر آئے، ایک نے دوسرے سے کپڑا خریدا تھا اور پھر اس کو کاٹ دیا تھا، کاٹنے کے بعد اس میں عیب پایا، آپ نے فرمایا کہ : کاٹنے کی وجہ سے جو عیب تو نے اس میں پیدا کردیا وہ اس عیب سے زیادہ سخت ہے جو اس میں تھا۔
حواشی
(١) في [ز]: (عن).
(٢) في [ع]: (عبد اللَّه).
(٣) سقط من: [أ، ح، ز، ط].
(٤) الراوية: ظرف يحمل فيه الماء ونحوه كالقربة، وفي [أ، ح، ز]: (روبة)، وفي [هـ]: (هروبة).
(٥) في [هـ]: زيادة (له شريح).
(٦) في [جـ، س، هـ]: (الذي).