مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يكون له على الرجل الوديعة فيدفعها إليه باب: کسی شخص کی امانت دوسرے کے پاس ہو اور وہ اُس کو دے دے
حدیث نمبر: 22476
٢٢٤٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (سفيان عن كليب ابن) (١) وائل قال: سمعت ابن (عمر) (٢) سئل عن رجل كان (له) (٣) على رجل دين. فأراد أن (يسلمه) (٤) إليه في طعام فكرهه، وقال: لا، حتى (يقبضه) (٥) (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ کسی شخص کے ذمہ کسی کا قرض تھا، پھر اس شخص نے ارادہ کیا کہ اس کی طرف سے طعا م میں ادا کر دے، آپ نے اس کو ناپسند فرمایا اور فرمایا کہ نہیں، جب تک کہ وہ قبضہ نہ کرے ایسا نہ کرے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (شقيق بن سلمة أبي)، وانمحت (عن كليب) في: [أ، ح].
(٢) في [جـ، ز]: (عمرو).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) في [هـ]: (يسلم).
(٥) في [أ، حـ، ط]: (تقبضه).