مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يكون له على الرجل الوديعة فيدفعها إليه باب: کسی شخص کی امانت دوسرے کے پاس ہو اور وہ اُس کو دے دے
حدیث نمبر: 22470
٢٢٤٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن عبد الملك عن عطاء في رجل كانت له على رجل دراهم، فلما حلت قال: أمسكها مضاربة، قال: (لا، يصلح) (١) حتى يقبضها منه، ثم يدفعها إليه إن شاء.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص کے دوسرے کے پاس کچھ دراہم تھے، جب واپسی کا وقت آیا تو اس نے اس سے کہا کہ اس کو بطور مضاربت اپنے پاس رکھ لے، اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اس کے لئے ٹھیک نہیں ہے جب تک وہ اس سے لے کر قبضہ نہ کرلے پھر اگر چاہے تو اس کو دوبارہ دے دے۔
حواشی
(١) في [أ، ح، هـ]: (لا يصلح).