مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجلين يختصمان في الشيء فيقيم أحدهما بينته باب: دو آدمیوں کا کسی چیز کے بارے میں جھگڑا ہو جائے پھر ان میں سے ایک گواہ پیش کر دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22464
٢٢٤٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن (حسن) (١) بن صاع عن أشعث عن الحكم في الرجل يكون في يده الثوب فيقيم الرجل البينة أنه ثوبه، ويقيم الذي (هو) (٢) في يده البينة أنه ثوبه، فقال: هو للذي في يده، وقال في الدابة: يقيم هذا البينة (أنها دابته) (٣)، ويقيم الذي (هي) (٤) في يده البينة أنها دابته قال: هي للذي في يده.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ ایک شخص کے پاس کپڑا تھا ایک شخص نے گواہ پیش کر دئیے کہ یہ اس کا کپڑا ہے، اور جس کے پاس تھا اس نے بھی گواہ پیش کر دئیے کہ یہ اس کا ہے، تو آپ نے فرمایا کہ جس کے قبضہ میں ہے اس کا ہے، اور جانور میں ایک شخص نے گواہ پیش کئے کہ یہ اس کا جانور ہے، اور جس کا قبضہ تھا اس نے گواہ پیش کر دئیے کہ یہ اس کا جانور ہے ، آپ نے فرمایا جس کے قبضہ میں ہے اس کا ہے۔
حواشی
(١) في [جـ، ز]: (حسين).
(٢) سقط من: [هـ، و].
(٣) سقط من: [أ، جـ، ح، س، هـ].
(٤) سقط من: [ح، هـ].