حدیث نمبر: 22456
٢٢٤٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان قال: حدثنا عبد الملك بن أبي القاسم قال: سألت نافعا وربيعة فقلت: (نشتري) (١) البز ثم نزيد عليه فوق ثمنه، ثم نرقمه عليه ثم نبيعه مرابحة ولا نبين الزيادة (فقالا) (٢): هذه المخالبة والمكاذبة.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد الملک بن ابی قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع اور حضرت ربیع سے دریافت کیا کہ : ہم لوگ کپڑا خریدتے ہیں پھر اس پر کچھ ثمن کا اضافہ کرتے ہیں اور پھر اس پر قیمت کی چٹ لگا دیتے ہیں اور اس کو بیع مرابحہ کرتے ہوئے فروخت کردیتے ہیں، لیکن جو ثمن زیادہ کیا ہے اس کو بیان نہیں کرتے، ایسا کرنا کیسا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں یہ تو دھوکہ اور جھوٹ ہے۔

حواشی
(١) في [ح]: (يشتري).
(٢) في [أ، جـ، س، ز، هـ]: (فقال: لا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22456
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22456، ترقيم محمد عوامة 21555)