مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يشتري الجارية فيظهر بها العيب باب: کوئی شخص باندی خرید کر لائے بعد میں اس باندی میں عیب ظاہر ہو جائےq
حدیث نمبر: 22413
٢٢٤١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن أشعث عن الحكم في الرجل يشتري الجارية فيقول البائع: لا أدفعها إليك حتى تحيض، فوضعت على يدي عدل فماتت، فقال: هي (من) (١) مال البائع.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ کوئی شخص باندی خریدے اور بائع اس کو کہے کہ جب تک اس کو حیض نہ آجائے میں تیرے سپرد نہ کروں گا وہ کسی عادل اور امین شخص کے سپرد کردی گئی اور فوت ہوگئی،۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا وہ بائع کے مال میں سے ہلاک ہوگئی۔ ( نقصان بائع کا شمار ہوگا) ۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].