حدیث نمبر: 22369
٢٢٣٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى بن (عبد الأعلى عن) (١) معمر ⦗٥٢١⦘ عن الزهري أن ابن عمر وزيد بن ثابت كانا لا يريان بأسًا بشراء الرزق إذا (أخرجت) (٢) القطوط، وهي الصكاك، ويقولون: لا تبعه حتى تقبضه (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت زید بن ثابت نے راشن کی پرچیاں خریدنے کو جائز قرار دیا ہے اور فرماتے ہیں کہ قبضہ سے پہلے نہ بیچو۔
حواشی
(١) في [ز]: (عبد العلي بن).
(٢) في [ط، هـ]: (أخرجت)، وفي [ز]: (خرج).