مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الأمة تزعم أنها حرة باب: اگر کوئی باندی خود کو آزاد قرار دے (اور اس سے شادی کرلی جائے تو) کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22352
٢٢٣٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن خلاس أن أمة أتت طيا فزعمت أنها حرة، (فتزوجها) (١) (رجل) (٢)، ثم إن سيدها ظهر عليها فقضى عثمان أنها وأولادَها لسيدها، وجعل لزوجها ما أدرك من (متاعه) (٣)، وجعل فيهم السنة أو الملة: في كل رأس رأسين (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت خلاس رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک باندی قبیلہ طیء میں آئی، اس نے کہا کہ وہ آزاد ہے، اس کو آزاد سمجھتے ہوئے ایک شخص نے اس کے ساتھ نکاح کرلیا، پھر اس باندی کا آقا اس کو لینے آگیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فیصلہ فرمایا کہ باندی اور اس کے بچے آقا کو ملیں گے، اُور اس کے شوہر کے لئے وہ ہے جو وہ سامان میں سے پالے۔ پھر آپ نے لوگوں میں یہ طریقہ جاری فرمادیا کہ ہر ایک نفس میں دو نفس ہیں۔
حواشی
(١) سقط من: [ط].
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، و].
(٣) في [س، هـ]: (متاعها).