حدیث نمبر: 22304
٢٢٣٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا بأس إذا كان للرجل على الرجل (الدراهم) (١) فأتاه فتقاضاه فقال: خذ بحقك شعيرًا أو حنطة أو تمرًا أو شيئًا غير الذهب، قال: إذا كانت دراهمه قرضًا فإنه يأخذ بها ما شاء.
مولانا محمد اویس سرور

ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی کے کسی شخص پر کچھ دراہم قرض ہوں، اور وہ اس کے پاس آ کر قرض کا مطالبہ کرے اور مقروض کہے کہ اس کے بدلے جو، گندم، کھجور یا سونے کے علاوہ کوئی چیز رکھ لے تو کوئی حرج نہیں، جب اس کے درہم دوسرے پر قرض ہوں تو وہ اس کے بدلے اس سے جو چاہے وصول کرسکتا ہے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (الدرهم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22304
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22304، ترقيم محمد عوامة 21415)