حدیث نمبر: 22285
٢٢٢٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن حميد بن هلال أن رجلًا منهم تصدق على أمه بأمة فكاتبتها ثم توفيت أمه، فسأل عمران بن حصين فقال: أنت ترث أمك، وإن شئت وجهتها في الوجه الذي كنت وجهتها فيه، قال حميد: فلقد رأيتها يقال لها: (لبيبة) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حمید بن ھلال رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنی والدہ کو باندی صدقہ کی، اس کی والدہ نے اس باندی کو مکاتبہ بنا لیا، پھر اس کا انتقال ہوگیا تو باندی وراثت میں دوبارہ اسی کو مل گئی، اس شخص نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تو اپنی والدہ کے ترکہ کا وارث بنے گا، اور اگر تو اس کے ساتھ وہی معاملہ کرنا چاہے جو پہلے کرتا تھا تو کرسکتا ہے۔ حضرت حمیدّ فرماتے ہیں کہ اس کا نام لبیبہ تھا۔

حواشی
(١) في [أ، هـ]: (لبنية).
(٢) رجاله ثقات، والصواب أن بين حميد وعمران أبا الدهماء قرفة بن بهين، وهو ثقة هكذا أخرجه مسدد كما في المطالب (١٥٣٥)، وانظر: مصنف عبد الرزاق (١٦٥٨٣).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22285
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22285، ترقيم محمد عوامة 21397)