مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يكلم الرجل في الشيء فيهدي له باب: ایک شخص دوسرے شخص سے کسی بات پر گفتگو کرتا ہے، اور پھر اسے اس کی بنا پر تحفہ (هدیہ) دیتا ہے
٢٢١٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن كليب بن (وائل) (١) قال: قلت لابن عمر: أتاني دهقان عظيم الخراج فقال: (تقبلني) (٢) من العامل، لا ⦗٤٦٩⦘ أتقبله (لأُعطي) (٣) عنه شيئًا إلا ليؤمنه عامله ويضطرب في حوائجه (٤)، فلم ألبث إلا قليلًا حتى أتاني بصحيفتي (٥)، فقلت: جزاك اللَّه خيرًا، وحملني على دابة (وأعطاني دراهم) (٦) وكساني، فقال: أرأيت (٧) لو لم (تقبله) (٨) (أكان) (٩) يعطيك؟ (قلت: لا) (١٠)، قال: لا، (يصلح) (١١) لك (١٢).حضرت کلیب بن وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میرے پاس ایک دیہاتی آدمی آیا جس کا بہت سارا خراج بنتا تھا۔ اس نے مجھ سے درخواست کی کہ آپ عامل سے میری سفارش کردیجیے۔ میں اس کی سفارش اس لیے نہیں کرتا کہ مجھ کو اس سے کچھ ہدیہ وغیرہ مل جائے۔ صرف اس لیے تاکہ عامل کو اس دیہاتی پر اعتماد ہوجائے اور عامل اس کی ضروریات کو پورا کردیا کرے۔ ابھی تھوڑی ہی دیر ہی گذری تھی کہ وہ میرے پاس میرا صحیفہ لے کر آیا اور کہا جزاک اللہ خیراً اور مجھے سواری پر بٹھایا اور مجھے اور درہم دئیے اور کپڑے پہنائے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : آپ کا کیا خیال ہے اگر تو اس کی سفارش نہ کرتا تو وہ تجھے یہ عطاء کرتا ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ تیرے لئے ٹھیک اور درست نہیں ہے۔