مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من كره أجر المعلم باب: جو حضرات معلّم کے اجرت لینے کو ناپسند کرتے ہیں
حدیث نمبر: 22112
٢٢١١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن ميسر (أبو سعد) (١) عن موسى بن عُلَيّ عن أبيه أن أبي بن كعب كان يعلم رجلا مكفوفا، فكان إذا أتاه غداه، قال: فوجدت في نفسي من ذلك فسألت رسول اللَّه ﷺ فقال: "إن (كان شيئًا) (٢) يتحفك به فلا خير فيه، وإن كان من طعامه وطعام أهله فلا بأس (به) (٣) " (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ایک نابینا شخص کو تعلیم دی، اس کے بعد جب بھی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لاتے وہ آپ کو کھانا کھلاتا، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے متعلق میرے دل میں کچھ شبہ سا پیدا ہوا، میں نے رسول کریم ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر وہ چیز تجھے تحفہ ( اجرت) میں دیتا ہے تو تیرے لیے اس میں کوئی خیر نہیں ہے، اور اگر اپنے اور اپنے گھر والوں کے کھانے کے لئے ہے تو پھر اس کے قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حواشی
(١) سقط من [جـ، ز]، وسقط (أبو) من [أ، ح، س، ط].
(٢) في [أ، ح، س، ط، هـ]: (شيء).
(٣) سقط من: [س، ط، هـ].