مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
الرجل يشتري الشيء (فيجد) به العيب باب: ایک آدمی کوئی چیز خریدے اور پھر اس میں عیب نظر آئے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22079
٢٢٠٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن (حباب) (١) قال: أخبرني الزبير بن (جنادة) (٢) قال: سألت سالمًا عن أرض بيضاء اشتريتها ممن يملك رقبتها (لأبني) (٣) ⦗٤٥٤⦘ فيها قال: لا بأس، قال: فقلت يؤدي عنها الخراج، قال: لا بأس، قلت: أقر بالصغار، قال: إنما ذلك في رؤوس الرجال.مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر بن جنادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم سے سوال کیا کہ کیا میں خراج والی بنجر زمین کو کھیتی باڑی کے لئے خرید سکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، میں نے کہا کہ کیا اس کا خراج ادا کیا جائے گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، میں نے کہا کہ میں چھوٹوں کے لئے اقرار کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ یہ بات مردوں کے سروں میں ہوتی ہے۔
حواشی
(١) في [أ]: (خباب).
(٢) في [ح]: (خبادة).
(٣) في [س، هـ]: (لا شيء)، وفي [ط]: (لابناء).