حدیث نمبر: 21845
٢١٨٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود (١) الطيالسي عن هشام الدستوائي ⦗٤٠٨⦘ عن يحيى بن أبي كثير أن عمر أرسل (غلاما له) (٢) أو (عبدا له) (٣) بصاع من (تمر) (٤) يشتري له به صاعا من شعير، وزجره: إن زادوه أن يزداد (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک غلام کو کھجوروں کا ایک صاع دے کر بھیجا کہ اس کے بدلے ایک صاع جو لے آئے، آپ نے اسے سختی سے منع کیا کہ ایک صاع سے زیادہ بالکل نہ لینا۔
حواشی
(١) في [ط]: زيادة (حدثنا أبو داود).
(٢) في [ب]: (غلمانه).
(٣) في [جـ]: (عماله).
(٤) في [هـ، س، و]: (بر).
(٥) منقطع؛ يحيى لا يروي عن عمر.