مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يدعي الشيء فيقيم عليه البينة (فيستحلف) أنه لم يبع باب: اگر ایک آدمی کسی چیز کا دعویٰ کرے، پھراس کے خلاف گواہی قائم ہوجائے تواس سے قسم لی جائے گی کہ اس نے اسے نہیں بیچا
حدیث نمبر: 21835
٢١٨٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن بن صالح عن الأسود بن قيس عن حسان بن ثمامة أن حذيفة عرف (جملًا له) (١) فخاصم فيه إلى قاض من قضاة المسلمين، فصارت على حذيفة يمين في القضاء، فحلف باللَّه الذي لا إله إلا هو: ما باع ولا وهب (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسان بن ثمامہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک اونٹ کو پہچان لیا اور مسلمانوں کے قاضی کے پاس مقدمہ دائر کیا، فیصلے میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ پر قسم لازم ہوئی تو انہوں نے اللہ کی قسم کھائی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ نہ انہوں نے اسے بیچا ہے اور نہ ہبہ کیا ہے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (جماله).
(٢) مجهول؛ لجهالة حسان بثمامة، وأخرجه الدارقطني (٤/ ٢٤٢)، والبيهقي (١٠/ ١٧٩)، وبنحوه عبد الرزاق (١٦٠٥٥).