حدیث نمبر: 21747
٢١٧٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب أن الناس قالوا: (١) ليتنا (قد رأينا) (٢) بين عبد الرحمن بن عوف (و) (٣) عثمان بيعا حتى ننظر أيهما أعظم جدا في التجارة، فاشترى عبد الرحمن من عثمان أفراسا بأربعين ألفًا و (اشترط عليه) (٤) إن كانت الصفقة (أدركتها) (٥) وهي حية مجموعة إلى الراعي ليست بضالة فقد وجب البيع، ثم جاوز شيئا فقال عبد الرحمن: ما صنعت فرجع إليه فقال: أزيدك ستة آلاف على إن أدركها الرسول وهي حية فعلي، فأدركها الرسول وقد نفقت، فخرج عبد الرحمن من الضمان بالشرط الآخر (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ کاش ہم حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ما کے درمیان ہونے والی بیع کو دیکھ لیں تاکہ ہم جان لیں کہ تجارت میں ان دونوں میں سے کون زیادہ محنت کرنے والا ہے، پھر حضرت عبدا لرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے چالیس ہزار درہم کے بدلے کچھ گھوڑے خریدے اور شرط لگائی کہ جب معاملہ پورا ہو تو سب گھوڑے زندہ ہوں، چرواہے کے پاس جمع ہوں اور گم نہ ہوں، پس جب بیع کا معاملہ طے ہوگیا اور حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ تھوڑا آگے بڑھے تو دل میں خود سے کہا کہ تم نے کیا کیا ؟ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف واپس گئے اور ان سے کہا کہ میں تمہارے لئے چھ ہزار زیادہ کردوں گا اگر قاصد ان کو زندہ ہونے کی حالت میں پہنچا دے، پس جب قاصد ان کو لے کر آیا تو ان میں کچھ مرگئے تھے، اس طرح حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ دوسری شرط کے ساتھ ضمان سے نکل گئے۔

حواشی
(١) في [ك]: زيادة (يا).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [ز]: (عن).
(٤) في [ط]: (شرط).
(٥) في [أ، حـ]: (أدركتهما)، وفي [س]: (ادركهما).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21747
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21747، ترقيم محمد عوامة 20896)