مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يساوم الرجل بالشيء (ولا) يكون عنده باب: ایسی چیز کا معاملہ کرنا جو آدمی کے پاس موجود نہ ہو
حدیث نمبر: 21731
٢١٧٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن محمد بن شريك عن ابن أبي مليكة قال: اشترى رجل من رجل طعاما، بعضه عنده وبعضه ليس عنده، (فسأل) (١) ابن عباس وابن (عمرو) (٢)، (فقالا) (٣): ما كان عنده فهو جائز، وما كان ليس عنده فليس بشيء (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے غلہ خریدا، کچھ بائع کے پاس تھا اور کچھ نہیں تھا، اس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما م سے اس بارے میں سوال کیا توا نہوں نے فرمایا کہ جو اس کے پاس تھا اس میں بیع جائز ہے اور جو اس کے پاس نہیں تھا اس کی بیع جائز نہیں ہے۔
حواشی
(١) في [ز]: (فقال).
(٢) في [س]: (عمر).
(٣) في [ط، هـ]: (قال).