مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في بيع الغرر والعبد الآبق باب: غیرموجود چیزوں او ربھاگے ہوئے غلام کی بیع کابیان
حدیث نمبر: 21732
٢١٧٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جَهضَم بن عبد اللَّه عن محمد بن إبراهيم عن محمد بن زيد عن شهر بن حوشب عن أبي (سعيد) (١) قال: (نهى) (٢) رسول اللَّه ﷺ عن شراء ما في بطون الأنعام حتى تضع، وعما في ضروعها إلا بكيل، وعن شراء العبد وهو آبق، وعن شراء المغانم حتى تقسم، وعن شراء الصدقات حتى تقبض، وعن ضربة الغائص (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانوروں کے پیٹ میں موجود بچوں کی خریدو فروخت سے منع فرمایا جب تک وہ پیدا نہ ہوجائیں، اسی طرح تھنوں میں موجود دودھ کی خریدو فروخت سے منع فرمایا جب تک اسے نکال کر ماپ نہ لیاجائے، بھاگے ہوئے غلام کی بیع سے، اور مال غنیمت کی بیع سے جب تک انہیں تقسیم نہ کردیا جائے، زکوٰۃ میں آنے والی چیزوں کو خریدنے سے جب تک ان پر قبضہ نہ کرلیا جائے اور سمندر میں غوطہ لگانے والے سے یہ معاملہ کرنے سے بھی منع کیا کہ وہ سمندر میں غوطہ لگائے گا اور جو کچھ ملے گا وہ مشتری کو دے دے گا۔
حواشی
(١) في [ز]: (معبد).
(٢) في [أ، ب]: (يا).
(٣) مجهول؛ لجهالة محمد بن إبراهيم، أخرجه أحمد (١١٣٧٧)، والترمذي (١٥٦٣)، وابن ماجه (٢١٩٦)، وعبد الرزاق (١٤٩٢٣)، وأبو يعلى (١٠٩٣)، والدارقطني ٣/ ١٥، والبيهقي (٥/ ٣٣٨)، وابن زنجويه (١٥٩٣).