مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يساوم الرجل بالشيء (ولا) يكون عنده باب: ایسی چیز کا معاملہ کرنا جو آدمی کے پاس موجود نہ ہو
حدیث نمبر: 21730
٢١٧٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الحكم (بن) (١) أبي الفضل قال: قلت للحسن: الرجل يأتيني فيساومني بالحرير ليس عندي، قال: فأتي ⦗٣٨٤⦘ (السوق) (٢) ثم أبيعه قال: هذه (المواصفة) (٣) فكرهه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم بن ابی فضل کہتے ہیں کہ میں نے حسن سے سوال کیا کہ ایک آدمی میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے ایسے ریشم کا معاملہ کرتا ہے جو میرے پاس موجود نہیں، پھر میں بازار سے خرید کرا سے فروخت کرتا ہوں کیا یہ درست ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ مواصفہ ہے اور انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا۔
حواشی
(١) في [ع]: (عن).
(٢) في [أ، س، ز، هـ]: (السوم).
(٣) في [ز]: (المواضعة)، وفي [و]: (المراصعة).