مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يساوم الرجل بالشيء (ولا) يكون عنده باب: ایسی چیز کا معاملہ کرنا جو آدمی کے پاس موجود نہ ہو
حدیث نمبر: 21729
٢١٧٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن المبارك عن الزهري عن سعيد بن المسيب أنه كان يكره بيع (المراوضة) (١) أن تواصف الرجل بالسلعة ليست عندك، وكره أن (يُري) (٢) (للرجل) (٣) الثوبَ ليس (له، فيقول) (٤) من حاجتك هذا؟ (يشتريه ليبيعه) (٥) منه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب بیع مراوضہ کو مکروہ قرار دیتے تھے، جس کی صورت یہ ہوتی کہ آدمی ایسی چیز کا معاملہ کرے جو اس کے پاس موجود نہ ہو، انہوں نے اس بات کو بھی مکروہ قرار دیا کہ ایک آدمی دوسرے کے پاس کپڑا دیکھے اور اس سے پوچھے کہ کیا تمہیں اس کی ضرورت ہے ؟ پھر اس سے اس لئے خریدے تاکہ اسے بیچ دے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (المواصفة، والمواصفة أن).
(٢) في [هـ]: (تري).
(٣) في [جـ]: (الرجل).
(٤) في [هـ]: (لك فتقول).
(٥) في [هـ]: (تشتريه لتبيعه).