مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يساوم الرجل بالشيء (ولا) يكون عنده باب: ایسی چیز کا معاملہ کرنا جو آدمی کے پاس موجود نہ ہو
حدیث نمبر: 21727
٢١٧٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن حجاج عن عبد الملك (ابن) (١) (أياس) (٢) أن عامرا وإبراهيم اجتمعا فسألهما عن رجل يطلب من الرجل المتاع وليس عنده فيشتريه ثم يدعوه إليه، فقال إبراهيم: يكره ذلك، وقال عامر: لا بأس، إن شاء أن يتركه تركه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن ایاس فرماتے ہیں کہ حضرت عامر اور ابراہیم ایک جگہ جمع ہوئے، ان دونوں سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے سے سامان کا مطالبہ کرے، وہ سامان اس کے پاس نہ ہو تو کیا وہ اس سے معاملہ کرکے ان چیزوں کو منگوا سکتا ہے ؟ ابراہیم نے اس معاملہ کو مکروہ قرار دیا، جبکہ حضرت عامر نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، اگر وہ بعد میں یہ معاملہ چھوڑنا چاہے تو چھوڑ سکتا ہے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (عن).
(٢) في [ط]: (عباس).