مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
الرجل يشتري من الرجل (المبيع) فيقول: إن كان بنسيئة فبكذا، وإن كان نقدا (فبكذا) باب: ایک آدمی دوسرے آدمی سے کوئی چیز خریدے اور کہے: اگر ادھار کے ساتھ ہو تو اتنے کی اور اگر نقد ہو تو اتنے کی، اس صورت کاکیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21683
٢١٦٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا هاشم بن القاسم قال: (نا) (١) شعبة قال: سألت الحكم وحمادا عن الرجل يشتري من الرجل الشيء فيقول: إن كان بنقد فبكذا، وإن كان إلى أجل فبكذا، قال: (لا بأس) (٢) إذا انصرف على أحدهما.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص چیز خریدتے ہوئے کہے کہ نقد اتنے کی اور ادھار اتنے کی تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، جب اس نے جدائی سے پہلے ایک معاملے کو اختیار کرلیا، حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت مغیرہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب وہ دونوں میں سے ایک بات پر راضی ہوکر جدا ہوں تو ابراہیم بھی اس میں کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (ثنا).
(٢) سقط من: [أ، ب].