حدیث نمبر: 21683
٢١٦٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا هاشم بن القاسم قال: (نا) (١) شعبة قال: سألت الحكم وحمادا عن الرجل يشتري من الرجل الشيء فيقول: إن كان بنقد فبكذا، وإن كان إلى أجل فبكذا، قال: (لا بأس) (٢) إذا انصرف على أحدهما.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص چیز خریدتے ہوئے کہے کہ نقد اتنے کی اور ادھار اتنے کی تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، جب اس نے جدائی سے پہلے ایک معاملے کو اختیار کرلیا، حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت مغیرہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب وہ دونوں میں سے ایک بات پر راضی ہوکر جدا ہوں تو ابراہیم بھی اس میں کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (ثنا).
(٢) سقط من: [أ، ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21683
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21683، ترقيم محمد عوامة 20836)