مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
الرجل يشتري من الرجل (المبيع) فيقول: إن كان بنسيئة فبكذا، وإن كان نقدا (فبكذا) باب: ایک آدمی دوسرے آدمی سے کوئی چیز خریدے اور کہے: اگر ادھار کے ساتھ ہو تو اتنے کی اور اگر نقد ہو تو اتنے کی، اس صورت کاکیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21680
٢١٦٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن أبي زائدة عن عبد الملك عن عطاء في رجل اشترى (بيعا) (١) ثم قال: ليس عندي (٢) هذا، أشتريه بالنسيئة، قال: إذا ⦗٣٧٣⦘ (تتاركا البيع) (٣) اشتراه إن شاء.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کو خریدے اور پھر کہے کہ میرے پاس اس کی قیمت نقد نہیں، میں اس کو ادھار پر خریدتا ہوں پھر اگر وہ دونوں پہلی بیع کو ختم کردیں تو وہ چاہے تو ادھار کے ساتھ خرید سکتا ہے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (مبيعًا)، وفي [ط]: (سبعًا).
(٢) في [هـ]: زيادة (نقد).
(٣) في [أ، ب، جـ، ز، س، ك]: (تتاركا البيع)، وفي [ط]: (ساركا البيع).