حدیث نمبر: 21631
٢١٦٣١ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن عبد الملك عن عطاء في الرجل يبيع مرابحة، يأخذ ربحا (للكراء) (١)؟ قال: يأخذ ربح ما ⦗٣٦٠⦘ (نقد) (٢) في الأرض التي خرج منها إن شاء، وما (نقد) (٣) في (البلد) (٤) الذي باع فيه فلا يأخذ (ربحه) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عطاء سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی کسی چیز کو نفع کے ساتھ بیچتا ہے اور کرائے پر بھی منافع لیتا ہے تو کیا یہ درست ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جو کچھ اس نے اس زمین پر خرچ کیا ہے جس سے وہ نکلا ہے اس کا نفع تو لے گا اور جو کچھ اس نے اس شہر میں خرچ کیا جہاں بیچا ہے اس کا نفع نہیں لے گا۔

حواشی
(١) في [جـ]: (لكراء)، وفي [س]: (بكراء).
(٢) في [أ، ب، س، ط، ز، هـ]: (نفد).
(٣) في [أ، ب، س، ط، ز، هـ]: (نفد).
(٤) في [س، ز]: (البلدة).
(٥) في [ط، هـ]: (ربحًا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21631
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21631، ترقيم محمد عوامة 20786)