حدیث نمبر: 21577
٢١٥٧٧ - حدثنا هشيم عن إسماعيل قال: (قلت) (١) للشعبي: أرأيت الرجل (يشتري) (٢) من الرجل (الشيء) (٣) حتم عليه أن يشهد، لا بد منه؟ قال: (لا) (٤)، (ألا) (٥) ترى إلى قوله: ﴿فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾.
مولانا محمد اویس سرور

اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے سوال کیا کہ جب کوئی آدمی کوئی چیز خریدے تو کیا اس پر گواہ بنانا لازمی اور ضروری ہے ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں، کیا تم قرآن مجید کی اس آیت کو نہیں دیکھتے : { فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا } اگر تم ایک دوسرے سے مامون ہو تو کوئی حرج نہیں۔

حواشی
(١) سقط من: [س].
(٢) في [س]: (أشترى).
(٣) سقط من: [س].
(٤) سقط من [أ، ب، هـ، س].
(٥) في [ك]: (لا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21577
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21577، ترقيم محمد عوامة 20734)