مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من رخص في أكل الثمرة إذا (مر) بها باب: باغ کے پاس سے گذرنے والا اس کا پھل کھا سکتا ہے
حدیث نمبر: 21534
٢١٥٣٤ - حدثنا شبابة قال: نا شعبة عن أبي (بشر) (١) عن عباد بن شرحبيل رجل من بني (غبر) (٢) قال: (٣) أصابتنا سنة فدخلت حائطا فأخذت سنبلا ففركته، فجاء صاحب الحائط (وضربني) (٤) وأخذ كسائي، فأتينا النبي ﷺ فقال: " (ما أطعمته (إذ) (٥) كان جائعا أو (ساغبا) (٦)، ولا علمته (إذ) (٧) كان جاهلا؟ " ⦗٣٣٣⦘ و (أخذ) (٨) ثوبه فرده (على) (٩) صاحبه (١٠).مولانا محمد اویس سرور
بنو نمیر کے ایک صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ قحط سالی کے دنوں میں میں ایک باغ میں داخل ہوا اور میں نے ایک خوشہ توڑ لیا، اتنے میں باغ کا مالک آگیا اور اس نے مجھے مارا اور میری چادر چھین لی، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے فرمایا کہ جب وہ بھوکا تھا تو تو نے اس کو کیوں نہ کھلایا اور جب وہ نہیں جانتا تھا تو تو نے اس کو کیوں نہیں بتایا، پھر آپ نے کپڑا مجھے واپس دلوادیا۔
حواشی
(١) في [س، ك]: (بشير).
(٢) في [أ، ب، س، هـ]: (عبد).
(٣) في [هـ]: زيادة (كنا).
(٤) في [س]: (فقربتي).
(٥) في [س]: (إذا).
(٦) في [أ، ب، س]: (ساعيا).
(٧) في [س]: (إذا).
(٨) في [س]: (فأخذ).
(٩) في [أ، ب]: (إلى).