مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من رخص في أكل الثمرة إذا (مر) بها باب: باغ کے پاس سے گذرنے والا اس کا پھل کھا سکتا ہے
حدیث نمبر: 21517
٢١٥١٧ - حدثنا معتمر بن سليمان قال: سمعت ابن (١) (حكم) (٢) يقول: (حدثتني جدتي) (٣) عن (عم) (٤) أبي: رافع بن عمرو الغفاري قال: كنت (وأنا ⦗٣٢٧⦘ غلام) (٥) أرمي نخل (الأنصار) (٦) فقيل للنبي ﵇: إن ها هنا (غلاما) (٧) يرمي نخلنا فأتي (٨) النبي ﷺ (٩) فقال: "يا غلام! لم (ترمي) (١٠) النخل؟ " قلت: آكل، قال: "فلا ترم النخل، وكل مما سقط في أسفلها"، ثم مسح رأسي، وقال: "اللهم اشبع بطنه" (١١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت رافع بن عمرو غفاری کہتے ہیں کہ میں چھوٹا لڑکا تھا اور انصار کے درختوں پر پھل اتارنے کے لیے پتھر مارتا تھا، حضور ﷺ سے ذکر کیا گیا کہ ایک لڑکا ہمارے درختوں پر پتھر مارتا ہے، پھر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اے لڑکے ! تم درختوں پر پتھر کیوں مارتے ہو ؟ میں نے کہا کہ میں کھجوریں کھانا چاہتا ہوں، حضور ﷺ نے فرمایا کہ درختوں پر پتھر نہ مارو، جو نیچے گریں وہ کھالو، پھر آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا کہ اے اللہ اس کا پیٹ بھر دے۔
حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (أبي).
(٢) في [هـ]: (الحكم).
(٣) في [أ، ب، جـ، ز، س، ط]: (حدثني جدي).
(٤) في [ب، ط، ك، هـ]: (عمي)، وفي [أ]: (عمر).
(٥) في [أ، ب، جـ، س، ط]: (أنا وغلام).
(٦) في [أ، ب]: (للأنصار).
(٧) في [أ، ب، س، ز]: (غلام).
(٨) في [هـ]: زيادة (بي).
(٩) في [ك، س، ط]: ﵇.
(١٠) في [س]: (ترم).
(١١) مجهول؛ لجهالة ابن أبي حكم وجدته، أخرجه أحمد (٢٠٣٤٣)، وأبو داود (٢٦٢٢)، والترمذي (١٢٨٨)، وابن ماجه (٢٢٩٩)، والحاكم (٣/ ٤٤٣)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٠٢٠)، وأبو يعلى (١٤٨٢)، والروياني (٧٢٠)، والطبراني (٤٤٥٩)، والبيهقي (١٠/ ٢)، والمزي (٩/ ٣٠)، وابن الأثير في أسد الغابة ٢/ ٢٢٩.