حدیث نمبر: 21494
٢١٤٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا حفص بن غيات عن أشعث (عن الشعبي) (١) قال: قال شريح: لا (نجيز) (٢) شهادة (العبيد) (٣) فقال علي: (لكنا) (٤) (نجيزها) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت شریح نے کہا کہ ہم تو غلام کی گواہی کو درست نہیں سمجھتے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم تو غلام کی گواہی کو درست سمجھتے تھے، اس کے بعد سے حضرت شریح غلام کی گواہی اس کے آقا کے علاوہ ہر ایک کے حق میں مانتے تھے۔

حواشی
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ، ب]: (يجيز)، وفي [س]: (تجز)، وفي [هـ]: (تجيز).
(٣) في [أ، ب، ز، ك]: (العبد).
(٤) في [س، هـ]: (لا كنا).
(٥) في [س]: (يجيزها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21494
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ أشعث ضعيف، والشعبي لم يدرك عليًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21494، ترقيم محمد عوامة 20656)