حدیث نمبر: 21487
٢١٤٨٧ - حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب أن امرأة باعت دارًا لزوجها وهو غائب، فلما قدم (أبى) (١) أن يجيز البيع (فخاصمه) (٢) فيها إلى إياس بن معاوية فجعل المشتري يقول: أصلحك اللَّه! أنفقت (فيها ألفي) (٣) درهم، فقال: (٤) (ألفاك) (٥) عَليّ (ألفاك علي) (٦)، (قال) (٧): (فقضى) (٨) للرجل بداره، وأمر (بامرأته) (٩) إلى السجن، فلما رأى ذلك جوّز البيع.
مولانا محمد اویس سرور

ایوب فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے خاوند کی عدم موجودگی میں اس کا گھر بیچ دیا، جب وہ واپس آیا تو اس نے بیع کو جاری رکھنے سے انکار کردیا۔ مقدمہ حضرت ایاس بن معاویہ کی عدالت میں پیش کیا گیا تو مشتری نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اللہ آپ کی اصلاح فرمائے کہ میں نے تو اس پر دو ہزار درہم خرچ کر دئیے ہیں، اس نے کہا کہ تیرے دو ہزار مجھ پر لازم ہیں، تیرے دو ہزار مجھ پر لازم ہیں، حضرت ایاس نے مکان کا فیصلہ اس آدمی کے حق میں کردیا اور عورت کو جیل میں ڈالنے کا حکم دیا جب انہوں نے اس چیز کو دیکھا تو بیع کو جائز قرار دے دیا۔

حواشی
(١) في [س]: (إلى)، وفي [أ، ب]: (أبي)، وفي [ز، ك]: (أبا).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (فخاصمه).
(٣) في [س]: (منها ألف).
(٤) في [س]: زيادة (قال: على).
(٥) في [ط، هـ]: (الفال).
(٦) في [ط، هـ]: (الفال).
(٧) في [جـ، ز، ك]: (على).
(٨) في [ك]: (فقضَا).
(٩) في [هـ]: (امرأته).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21487
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21487، ترقيم محمد عوامة 20649)