حدیث نمبر: 21485
٢١٤٨٥ - حدثنا يحيى بن يعلى التيمي عن منصور عن الحكم عن علي أن رجلًا (ترك) (١) امرأته و (ابنا) (٢) له و (جارية) (٣) فباعت امرأته وابنه الجارية (فوطئها) (٤) الذي ابتاعها فولدت، ثم (جاء صاحب) (٥) الجارية فتعلق بها، (فخاصمه) (٦) إلى علي فقال علي: باعت امرأتك وابنك وقد ولدت من الرجل، سلم البيع، فقال الرجل: أنشدك (اللَّه) (٧) لما قضيت بكتاب اللَّه، فقال: خذ جاريتك وولدها، وقال (للآخر) (٨): خذ المرأة والابن بالخلاص، فلما (أخذ) (٩) سلم الآخر البيع (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حکم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی اور اپنے بیٹے کے لیے ایک باندی چھوڑی، اس کی بیوی اور بیٹے نے اس باندی کو فروخت کردیا، خریدار نے اس باندی کے ساتھ جماع کیا اور اس کی اولاد بھی ہوئی، اس کے بعد باندی کا مالک آگیا اور اس نے باندی کو حاصل کرنا چاہا، یہ مقدمہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس پیش ہوا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ تیری باندی کو تیری بیوی اور تیرے بیٹے نے فروخت کردیا ہے، اور خریدار کا اس سے بچہ بھی ہوگیا ہے تم بیع کو باقی رکھو، اس نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، آپ نے اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ نہیں فرمایا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے فرمایا کہ اپنی باندی اور اس کے بچے کو لے جاؤ، پھر آپ نے دوسرے آدمی سے فرمایا کہ عورت اور اس کے بیٹے سے خلاص لے لو، جب ان سے خلاص لے لیا گیا تو دوسرے آدمی نے بیع کو سپرد کردیا۔ ٭ حدیث نمبر ٢٠٦٤٧ سے خلاص کا معنی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کو بیچ دے اور خریدنے والا اس کو استعمال کرنے لگے۔ پھر اس چیز میں کوئی حقدار نکل آئے تو بائع سے اس چیز کی اصل قیمت بھی لی جائے گی اور جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے اضافی تاوان بھی وصول کیا جائے گا۔

حواشی
(١) أي سافر.
(٢) في [أ، ب، ك]: (ابن).
(٣) في [س]: (جاوريته)، وفي [أ، هـ]: (جاريته).
(٤) في [س، ط]: (فوطنها).
(٥) في [أ، ب]: (حاضت).
(٦) في [س]: (فحاصمه).
(٧) سقط من [أ، ب، هـ].
(٨) في [س، ط]: (الآخر).
(٩) في [أ، ب، س، هـ]: (أخذا).
(١٠) منقطع؛ الحكم لم يدرك عليًا.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21485
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21485، ترقيم محمد عوامة 20647)