مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في (السيف) المحلى والمنطقة المحلاة و (المصحف) باب: زیور چڑھی تلوار، زیور چڑھے سامان اور مصحف وغیرہ کی بیع کا بیان
حدیث نمبر: 21390
٢١٣٩٠ - حدثنا ابن مبارك عن سعيد بن (يزيد) (١) قال: سمعت خالد بن أبي عمران يحدث عن (حنش) (٢) عن فضالة بن عبيد قال: أُتي (النبي) (٣) ﷺ يوم (خيبر) (٤) بقلادة فيها خرز معلقة بذهب ابتاعها رجل بتسعة دنانير أو (بسبعة) (٥) فأتى النبي ﷺ فذكر ذلك له، فقال: (٦) لا، حتى (تميز) (٧) (ما) (٨) بينهما فقال: إنما أردت الحجارة. قال: لا، حتى (تميز ما) (٩) بينهما. (قال: فرده حتى ميز ما بينهما) (١٠) (١١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضالہ بن عبید فرماتے ہیں کہ غزوہ خیبر میں حضور ﷺ کے پاس ایک ہار لایا گیا جس میں پتھروں کے ساتھ سونا لگا ہوا تھا۔ ایک آدمی نے اسے نو یا سات دینار کا خریدا۔ جب وہ حضور ﷺ کے اپس آیا اور ساری بات عرض کی، تو آپ نے فرمایا کہ تمہارے لیے اسے خریدنا اس وقت تک درست نہیں جب تک فرق نہ کرلو۔ اس نے کہا کہ میں نے تو پتھروں کا ارادہ کیا تھا۔ حضور ﷺ نے یہ فرمایا کہ یہ بیع اس وقت تک درست نہیں جب تک دونوں کے درمیان فرق نہ کرلو۔ پھر اس آدمی نے دوبارہ واپس کیا اور تمیز کرنے کے بعد خریدا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ط]: (زيد)، وسقطت في [س].
(٢) في [أ، ب، س، ط]: (حسن).
(٣) في [س]: (نبى).
(٤) في [أ]: (حنين).
(٥) في [أ، ب]: (سبعة).
(٦) في [س]: زيادة (اللَّه).
(٧) في [أ، ب]: (يميز).
(٨) في [س]: (نا).
(٩) في [س]: (تميزنا).
(١٠) سقط من [س، هـ].