مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يشتري (المبيع) (فيهلك) في يد البائع قبل أن (يقبضه) (المبتاع) باب: اگر گاہک کوئی چیز خرید لے اور وہ قبضے سے پہلے بائع کے پاس ہی ہلاک ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21374
٢١٣٧٤ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن داود بن أبي هند أن رجلا ابتاع من رجل متاعا إلى أجل، و (حبسه) (١)، (فبيتهم) (٢) حريق من الليل (فأحرق) (٣) بعضه، فسألت الشعبي (فقال) (٤): هو (من) (٥) مال الذي (هو) (٦) (في) (٧) (يديه) (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت داود بن ابی ہند کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے مقررہ مدت تک ادائیگی کی شرط پر کچھ مال خریدا اور اسے بائع کے پاس چھوڑ دیا۔ رات کو گھر میں آگ لگ گئی اور کچھ سامان جل گیا۔ اس بارے میں میں نے حضرت شعبی سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ جس کے قبضے میں تھا اسی کا نقصان ہوا۔
حواشی
(١) في [س]: (وجئه)، وفي [ك]: (حسبه).
(٢) في [ط]: (فبينهم).
(٣) في [جـ، ز، ك]: (فاحترق).
(٤) في [ز]: (قال).
(٥) سقط من: [ز، ك].
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) في [ز، ك]: (فيه).
(٨) في [ب]: (يدى).