مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يشتري (المبيع) (فيهلك) في يد البائع قبل أن (يقبضه) (المبتاع) باب: اگر گاہک کوئی چیز خرید لے اور وہ قبضے سے پہلے بائع کے پاس ہی ہلاک ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
٢١٣٧٢ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن إبراهيم قال: إذا اشترى الرجل المتاع فقال المشتري: (انقله إليَّ) (١) وقال البائع: لا، حتى (تأتيني) (٢) بالثمن فهذا بمنزلة الرهن، (إن) (٣) هلك فهو من مال البائع، وإن قال: البائع للمشتري: انقله، فقال: دعه حتى (نأتيك) (٤) بالثمن، فهذا بمنزلة الوديعة، إن هلك فهو من مال المشتري، ويبيع هذا ولا يبيع ذاك.ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے کوئی چیز خریدی اور مشتری نے کہا کہ اسے میرے حوالے کردو، بائع نے کہا کہ جب تک تم ثمن نہ لے آؤ میں تمہیں نہیں دوں گا۔ یہ معاملہ رہن کے درجہ میں ہوگا۔ اگر وہ ہلاک ہوا تو بائع کے مال میں سے ہوگا۔ اور اگر بائع نے مشتری سے کہا کہ اسے اپنے قبضے میں لے لو اور مشتری نے کہا کہ میں جب تک قیمت نہ لے آؤں اس وقت تک قبضہ نہ کروں گا تو یہ ودیعت کے حکم میں ہوگا۔ اگر ہلاک ہوا تو مشتری کے مال سے ہلاک ہوگا۔ ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا تذکرہ محمد سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے خیال میں انہوں نے سچ کہا۔