مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من قال: (لا) تجوز الصدقة حتى (تقبض) باب: جن حضرات کے نزدیک قبضے سے پہلے صدقہ و زکوۃ معتبر نہیں
حدیث نمبر: 21326
٢١٣٢٦ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن عبد الرحمن (بن) (١) عبد القارئ قال: قال عمر: ما بال رجال (ينحلون) (٢) أولادهم (نحلا) (٣)، فإذا مات (ابن) (٤) (أحدهم) (٥) قال: مالي وفي يدي، وإذا مات هو قال: قد كنت (نحلته) (٦) ولدي، (٧) لا (نحلة) (٨) إلا (نحلة) (٩) (يحوزها) (١٠) (الولد دون الوالد) (١١) (١٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو کیا ہوا کہ وہ اپنی خوشی سے اولاد کو مال دیتے ہیں لیکن جب ان میں سے کسی کا انتقال ہوجاتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ میرا مال ہے اور میرے قبضے میں ہے۔ کہ جب وہ مرجاتا ہے تو کہتا ہے کہ میں اپنے بیٹے کو خوشی سے دیا تھا۔ خوشی سے دیا ہوا مال وہی ہوتا ہے جس پر اولاد یا باپ قبضہ کرلیں۔
حواشی
(١) في [جـ]: (عن).
(٢) في [س]: (ينجلون).
(٣) في [س]: (نجلا)، وفي الموطأ (١٤٣٩)، والبيهقي (٤/ ٢٨٠)، والمحلى (٩/ ١٢٢)، زيادة (ثم يمسكون).
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، ك، س، ز].
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) في [ب]: (نجلته)، وفي (س): (تحلة).
(٧) في [س]: زيادة (و).
(٨) في [س]: (تحلته)، وفي (ط): (نحلته).
(٩) في [ط]: (نجلة)، وفي [س]: (تحلة).
(١٠) في [س]: (يجوزها).
(١١) في [أ، ب، ز، ك]: (الولد أو الوالد)، وفي [جـ]: (الوالد أو الولد)، وفي [س، ط]: (الولد أو الولد).