مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
الرجل يسن الرجل السكنى باب: ایک آدمی دوسرے کو کسی مکان میں ٹھہرا لے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21324
٢١٣٢٤ - حدثنا ابن أبي زائدة عن أشعث عن محمد قال: اختصم إخوة إلى شريح فقال أحدهم: زوجني و (أسكنني) (١) و (أثابني) (٢) فقال: (أزوّجه) (٣) وأسكنه؟ (فقالوا) (٤): (زوّجه) (٥) وأسكنه فقال: شاهدان ذو (ا) (٦) عدل على أنه (آثرك) (٧) بها على نفسه في حياته.مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ حضرت شریح کی عدالت میں کچھ بھائیوں کا جھگڑا ہوا۔ ایک کہتا تھا کہ اس نے میرے شادی کرائی، مجھے رہائش دی اور مجھے ٹھکانہ دیا، حضرت شریح نے سوال کیا کہ کیا اس نے اس کی شادی کرائی اور رہائش دی۔ لوگوں نے تصدیق کی تو قاضی شریح نے فرمایا کہ دو عادل گواہ یہ گواہی دیں کہ اس نے تجھے اپنے زندگی میں خود پر ترجیح دی۔
حواشی
(١) في [س، ط]: (أسكنى).
(٢) في [أ، ب، س]: (انابني)، وفي [هـ]: (انا بني).
(٣) في [س]: (زووجه).
(٤) في [جـ]: (فقال).
(٥) في [ط]: (أزوجه).
(٦) سقط من: [ز، ك].
(٧) في [س]: (اشرك).