مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
الرجل يسن الرجل السكنى باب: ایک آدمی دوسرے کو کسی مکان میں ٹھہرا لے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21321
٢١٣٢١ - (حدثنا) (١) هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: سألته عن رجل أسكن رجلا داره، فمات المسكِن و (المسكَن) (٢) قال: يرجع إلى (ورثة) (٣) المسكِن؛ قال: قلت: يا (أبا) (٤) عمران (أليس) (٥) كان (يقال) (٦): من ملك شيئا حياته فهو لورثته من بعده، قال: إنما (ذلك) (٧) في العمرى، فأما السكنى والغلة والعارية فإنها ترجع إلى ورثتها.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ اگر ایک آدمی کسی کو اپنے گھر میں ٹھہرائے، پھر ٹھہرانے والا اور ٹھہرا ہوا انتقال کر جائے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ مکان ورثاء کے پاس آجائے گا۔ میں نے عرض کیا اے ابو عمران ! کیا یہ نہیں کہا جاتا تھا کہ جو شخص کسی کو تاحیات کسی چیز کا مالک بنائے تو وہ اس کے بعد اس کے ورثاء کی ہوتی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ آباد کی جانے والی زمینوں میں ہوتا ہے۔ رہائش، غلہ اور عاریہ ورثاء کی طرف لوٹتے ہیں۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س، ز]: (ثنا).
(٢) في [أ، ب]: (الساكن)، وفي [جـ، س، ز، ط، ك]: (السكن).
(٣) في [س، ك]: (ورثته).
(٤) في [ط، هـ]: (وأنا)، وفي [أ، ب]: (فأنا).
(٥) في [أ، ب، هـ]: (السر).
(٦) في [ب، هـ]: (يقول).
(٧) في [جـ، ك]: (ذاك)، وكذلك [ط].