مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
الرجل يسن الرجل السكنى باب: ایک آدمی دوسرے کو کسی مکان میں ٹھہرا لے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21315
٢١٣١٥ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن خالد الحذاء قال: كتب عمر بن عبد العزيز أن السكنى عارية. فإذا قال: هي له و (لعقبه) (١)، (فهي له و (لعقبه)) (٢) (٣) ما بقيت منهم امرأة، فإذا انقرضوا جميعا رجعت إلى ورثته.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز نے خط میں لکھا کہ رہائش عاریہ کی چیز ہے۔ اگر رہائش دینے والا کہے کہ یہ اس کے لیے اور اس کے بعد آنے والوں کے لیے ہے تو یہ اس کے لیے اور اس کے بعد آنے والوں کے لیے ہوگی۔ جب تک ان میں سے ایک عورت بھی باقی رہے۔ اگر ایک عورت بھی باقی نہ رہے تو ورثاء کی طرف لوٹ جائے گی۔
حواشی
(١) في [س]: (تعقبه).
(٢) في [س]: (تعقبه).
(٣) سقط من: [ع].