مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
(في) الرجل يهوق أو يفلس وعنده سلعة بعينها باب: اگر کوئی آدمی مر جائے یا مفلس ہو جائے اور اس کے پاس سامان ہو تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21304
٢١٣٠٤ - (حدثنا) (١) إسماعيل بن إبراهيم (عن) (٢) عوف قال: قرئ علينا كتاب عمر بن عبد العزيز: أيما رجل أفلس فأدرك رجلٌ مالَه بعينه فهو أحق (به) (٣) من سائر الغرماء، إلا أن يكون اقتضى من ماله شيئًا فهو أسوة الغرماء. قضى بذلك رسول اللَّه ﷺ (٤) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف فرماتے ہیں کہ ہمارے سامنے حضرت عمر بن عبد العزیز کا خط پڑھا گیا۔ جس میں لکھا تھا کہ اگر کوئی شخص مفلس ہوجائے اور اس کے پاس کسی شخص کا سامان بعینہ موجود ہو تو وہ باقی غرماء سے زیادہ مستحق ہوگا۔ البتہ اگر اس نے اس کے مال میں کچھ کما لیا تو وہ قرض خواہوں کے حصے میں آئے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ فرمایا تھا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س، ز]: (ثنا).
(٢) في [أ، ب، جـ، ز، س، ك، ط]: (بن).
(٣) في [أ، ب، جـ]: زيادة (به).
(٤) في [ك]: ﵇.