حدیث نمبر: 21290
٢١٢٩٠ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر عن الزهري قال: مضت السنة أنه من ملك من محرمه شيئًا فهو حر، بملكه عتيق، قال: وما وراء ذلك من القرابة رحم أمر اللَّه بصلتها ونهى عن عقوقها، ولا أعلم من (العقوق) (١) شيئًا أشدَّ من أن يتخذ الرجل (قريبه) (٢) مملوكا (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت زہری فرماتے ہیں کہ سنت یہ جاری رہی کہ جو شخص اپنے محرم کا مالک بنا اس کا محرم آزاد ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے صلہ رحمی کا حکم دیا ہے اور قطع رحمی سے منع کیا ہے۔ اس سے بڑی قطع رحمی کیا ہوسکتی ہے کہ آدمی کسی رشتہ دار کو مملوک بنا لے۔

حواشی
(١) في [ك]: (العهوق).
(٢) سقط من: [س].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21290
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21290، ترقيم محمد عوامة 20460)