حدیث نمبر: 21266
٢١٢٦٦ - حدثنا زيد بن الحباب عن سوأدة بن (حيان) (١) قال: سمعت محمد بن سيرين وسئل عن رجلين اشترى أحدهما طعاما و (الآخر) (٢) (معه) (٣) فقال: قد شهدت البيع والقبض، فقال: خذ مني ربحا و (أعطنيه) (٤) قال: لا، حتى يجري فيه الصاعان، فيكون (له) (٥) زيادته وعليه نقصانه.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن سیرین سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی نے کھانا خریدا، دوسرا اس کے ساتھ تھا وہ کہتا ہے کہ میں نے بیع اور قبضے کو دیکھا ہے پھر وہ نفع کے ساتھ اس چیز کو خریدنا چاہتا ہے تو کیا اسی کیل میں خریدے۔ انہوں نے فرمایا کہ دوسری مرتبہ بیچنے سے پہلے دوبارہ ماپنا ضروری ہے تاکہ اضافے اور کمی کا علم ہوجائے۔

حواشی
(١) في [ب، هـ]: (حبان).
(٢) في [ك]: (الاجر).
(٣) في [أ، ب، س]: (يبيعه)، وفي [ط]: (بيعه).
(٤) في [ب، س]: (وأعطيته).
(٥) في [هـ]: (لك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21266
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21266، ترقيم محمد عوامة 20436)