مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
الرجل يشهد الطعام يكال بين يديه باب: اگر کسی آدمی کے سامنے غلے کو تولا جائے تو کیا خریدتے وقت دوبارہ تلوانا ہو گا؟
حدیث نمبر: 21263
٢١٢٦٣ - حدثنا وكيع عن كهمس بن الحسن عن ميمون (القناد) (١) قال: قلت لسعيد بن المسيب: الرجل يشتري (الهاشمية) (٢) وأنا أنظر إلى وزنها أشتريها بوزنها؟ قال: كان يقال: ذلك الربا (خالط) (٣) الكيل والوزن.مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون قناد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب سے سوال کیا کہ ایک آدمی ایک جانور بیچتا ہے میں اس کو وزن کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو کیا اسی وزن سے خرید سکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ کہا جاتا تھا کہ یہ وہ سود ہے جو کیل اور وزن کے ساتھ ملا ہوا ہے۔
حواشی
(١) في [ط]: (القياد).
(٢) في [جـ]: (الناشية)، وفي [هـ]: (الماشية)، وهي الدنانير الجديدة نسبة لبني هاشم، انظر: المدونة (٨/ ٤٤٠)، والأم (٣/ ٤)، والاستذكار (٦/ ٣٦٨).
(٣) في [جـ]: (يخالط).