حدیث نمبر: 21262
٢١٢٦٢ - حدثنا مروان بن معاوية عن (زياد) (١) مولى آل (سعد) (٢) قال: قلت لسعيد بن المسيب: رجل ابتاع طعاما فاكتاله. أيصلح (٣) أن أشتريه بكيل الرجل؟ فقال: لا، حتى يكال بين يديك.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت زیاد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب سے سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی غلے کو ماپ کر خریدے تو کیا دوسرے آدمی کے لیے اس کے ماپنے پر اکتفاء کرتے ہوئے خریدنا ٹھیک ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ اپنے سامنے ماپ کرانا ضروری ہے۔

حواشی
(١) في [س، ع، جـ]: (إياد).
(٢) في [هـ]: (سعيد).
(٣) في [هـ]: زيادة (لي)، وفي [أ، ب، جـ، س، ز، ط، ك]: سقطت.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21262
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21262، ترقيم محمد عوامة 20432)