مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
الرجل يشهد الطعام يكال بين يديه باب: اگر کسی آدمی کے سامنے غلے کو تولا جائے تو کیا خریدتے وقت دوبارہ تلوانا ہو گا؟
حدیث نمبر: 21262
٢١٢٦٢ - حدثنا مروان بن معاوية عن (زياد) (١) مولى آل (سعد) (٢) قال: قلت لسعيد بن المسيب: رجل ابتاع طعاما فاكتاله. أيصلح (٣) أن أشتريه بكيل الرجل؟ فقال: لا، حتى يكال بين يديك.مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب سے سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی غلے کو ماپ کر خریدے تو کیا دوسرے آدمی کے لیے اس کے ماپنے پر اکتفاء کرتے ہوئے خریدنا ٹھیک ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ اپنے سامنے ماپ کرانا ضروری ہے۔
حواشی
(١) في [س، ع، جـ]: (إياد).
(٢) في [هـ]: (سعيد).
(٣) في [هـ]: زيادة (لي)، وفي [أ، ب، جـ، س، ز، ط، ك]: سقطت.