مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يشتري الشيء ولا ينظر إليه من قال: هو (بالخيار) إذا رآه؛ إن شاء (أخذ) وإن شاء (ترك) باب: اگر کسی آدمی نے کوئی چیز دیکھے بغیر خریدی تو جن حضرات کے نزدیک اسے رکھنے یاچھوڑنے کا اختیار ہو گا
حدیث نمبر: 21166
٢١١٦٦ - حدثنا هشيم عن إسماعيل بن أبي خالد عن (محمول) (١) مولى (٢) عمارة قال: (بعت) (٣) من رجل بردين و (شرطت) (٤) عليه إن (نشر) (٥) أحدهما فقد وجب فنشر أحدهما فلم يرضه فجاء يردهما (فأبيت) (٦) عليه، فخاصمته إلى شريح فقال: (لك) (٧) الرضى، (وليس) (٨) له، إنما البيع عن تراض.مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمول مولی آل عمارہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو دو چادریں فروخت کیں اور شرط لگائی کہ اگر تم نے ایک چادر کو کھولا تو دونوں کی بیع لازم ہوگی۔ اس نے ایک چادر کو کھولا، پھر وہ اس بیع سے راضی نہ ہوا اور مجھے واپس کرنے کے لیے آگیا۔ میں نے واپس کرنے سے انکار کیا اور یہ مقدمہ لے کر قاضی شریح کے پاس گیا انہوں نے فرمایا کہ تیری رضا ہے اس کی نہیں ہے جبکہ بیع تو باہمی رضامندی کا نام ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س، ز، ط، هـ]: (محمود)، وانظر: التاريخ الكبير ٨/ ٦١ و ٧/ ٤٠٥، والجرح والتعديل ٨/ ٤٣٢، وعلل الحديث ٢/ ٩٧، والثقات ٧/ ٥٢٢، والمغني ٢/ ٦٤٧، ولسان الميزان ٦/ ٥، وانظر: الخبر في أخبار القضاة ٢/ ٣٩٣.
(٢) سقط من: [جـ]، وفي [ز]: زيادة (أبي)، وفي [أ، ب، س، هـ]: (آل).
(٣) في [س]: (بعث).
(٤) في [س]: (شرط).
(٥) في [ط، هـ]: (ينشر).
(٦) (فأتيت) في [س، ط، ب].
(٧) سقط من: [أ، ب، هـ، س، جـ، ز].
(٨) في [س]: (يس)، و [جـ].