حدیث نمبر: 21104
٢١١٠٤ - حدثنا يونس بن محمد عن حماد بن سلمة عن أبي الزبير عن جابر أن النبي ﷺ أمر بقتل الكلاب، حتى أن المرأة كانت تدخل بالكلب فيقتل قبل أن (تخرج) (١) قال: لولا أن الكلاب أمة من الأمم لأمرت بقتلها، فاقتلوا منها كل أسود (بهيم) (٢) (الذي) (٣) بين عينيه نقطتان، فإنه شيطان (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا۔ لوگوں نے اس حکم اس پابندی سے عمل کیا کہ اگر کوئی عورت شہر میں کتا لے کر آتی تو اس کے نکلنے سے پہلے کتے کو مار دیا جاتا تھا پھر حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر کتے اللہ کی پیدا کی ہوئی جماعت نہ ہوتے تو میں سب کو قتل کرنے کا حکم دے دیتا، لہٰذا تم صرف اس تیز کالے کتے کو قتل کرو جس کی آنکھوں کے درمیان دو نقطے ہوں کیونکہ یہ کتا شیطان ہے۔
حواشی
(١) في [ط، هـ]: (يخرج).
(٢) في [ز، س]: (بهم).
(٣) في [س]: (الذين).