حدیث نمبر: 21102
٢١١٠٢ - حدثنا شبابة عن ابن أبي ذئب عن الحارث عن غريب عن أسامة قال: دخلت على رسول اللَّه ﷺ (وعليه) (١) (الكآبة) (٢) فقلنا: ما لك يا رسول اللَّه؟ قال: "إن جبريل ﵇ وعدني أن يأتيني (٣) فلم يأتني منذ ثلاث" قال: " (فأجاز) (٤) كلب" قال أسامة: فوضعت يدي على رأسي، وصحت، فجعل النبي ﷺ يقول: "ما لك يا أسامة؟ " فقلت: (أجاز) (٥) كلب فأمر النبي ﷺ (بقتله) (٦) فقتل (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اسامہ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کچھ پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! خیریت تو ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ جبریل (علیہ السلام) نے میرے پاس آنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ تین دن سے میرے پاس نہیں آئے۔ اتنے میں ایک کتا وہاں سے گذرا۔ میں نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھا اور میں چلایا۔ حضور ﷺ نے پوچھا اے اسامہ کیا ہوا ؟ میں نے عرض کیا کہ ایک کتا گذرا ہے۔ حضور ﷺ نے اسے مارنے کا حکم دیا اور اسے مار دیا گیا۔

حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [ط]: (المكابة).
(٣) في [أ، ب، جـ، ز، ط، ك، هـ]: زيادة (فلم يأتيني).
(٤) في [س، هـ]: (فأجار).
(٥) في [ز، س، ط]: (جار)، وفي [أ، ب]: (جاءت)، وفي [هـ]: (أجار).
(٦) في [س]: (بقتل).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21102
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ الحارث صدوق، أخرجه أحمد (٢١٧٧٢)، والبزار (٢٥٩٠)، والطيالسي (٦٣٧)، والطحاوي (٤/ ٢٨٣)، والضياء (٤/ ١٣٤٧)، والطبراني (٣٨٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21102، ترقيم محمد عوامة 20284)