حدیث نمبر: 21071
٢١٠٧١ - حدثنا يحيى بن سعيد عن أبي جعفر (الخطمي) (١) قال: حدثني خالي عبد الرحمن عن جدي عقبة بن فاكه قال: أتيت زيد بن ثابت نصف النهار فاستأذنت، عليه فخرج (متزرًا) (٢) بيده عصى فقلت: (أين كنت) (٣) في هذه الساعة؟ فقال: (إني) (٤) كنت أتبع هذه الدابة، يكتب اللَّه بقتلها الحسنة ويمحو بها السيئة فاقتلها وهي (الوزغ) (٥) (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن فاکہ کہتے ہیں کہ میں نصف نہار کے وقت حضرت زید بن ثابت کے پاس حاضر ہوا۔ میں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو وہ ازار پہنے ہوئے ہاتھ میں لاٹھی پکڑے باہر تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا کہ اس وقت آپ کیا کر رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں اس جانور کو تلاش کر رہا ہوں جس کو مارنے پر اللہ تعالیٰ ایک نیکی لکھتے ہیں اور ایک گناہ معاف فرماتے ہیں اس کو مارو اور وہ جانور چھپکلی ہے۔
حواشی
(١) في [س]: (الخطي).
(٢) في [ط]: (متزرًا)، وفي [س]: (مقدارًا).
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، ز، ط، ك].
(٤) في [أ، ب]: (أين)، وسقط من: [س، هـ].
(٥) في [أ، ب، س]: (الوزع).
(٦) مجهول؛ لجهالة عقبة وعبد الرحمن، أخرجه الطبراني (٤٧٣٨)، وابن عساكر (١٩/ ٣٠١).