مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصيد
ما ينهى عن أكله من الطير والسباع؟ باب: کون سے پرندوں اور جانوروں کا کھانا منع ہے؟
حدیث نمبر: 21051
٢١٠٥١ - حدثنا (أبو بكر) (١) (قال) (٢): نا عبد الرحيم عن ليث عن مجاهد قال: كل شيء (لقط) (٣) من الطير فليس به بأس، وكل شيء نهش بمنقاره أو أخذ (بمخلبه) (٤) فكان يكره (لحمه) (٥)، وكان يكره لحم (الصرد) (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ چگ کر کھانے والا پرندہ بالکل حلال ہے۔ چونچ اور پنجوں سے شکار کرنے والا مکروہ ہے۔ وہ لٹورے کے گوشت کو مکروہ خیال کرتے تھے۔
حواشی
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [س]: زيادة (قال).
(٣) في [س]: (لفط).
(٤) في [أ، ب]: (بمخلابه)، وفي [ز، ك]: (بمخالبه)، وفي [س، ط، هـ]: ([بمنخلابه).
(٥) في [أ، ب، جـ، ز، س، ط، ك]: (لحمه)، وفي [هـ]: (لحم).
(٦) في [س، هـ]: (السرد)، والصرد: طائر ضخم الرأس والمنقار له ريش عظيم يصيد العصافير، نصفه أبيض ونصفه أسود، وانظر: النهاية ٣/ ٢١، العين ٧/ ٩٧.